اشاعتیں

ایکس ایکس ایکس کی ابتدا (حصہ پنجم)

بقیہ: دوستو .....!  کہتے ہیں ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے ۔ لہذا دو صدیوں سے پورن گرافی دیکھنے والی عوام اکتا گئی ۔ کیونکہ پورن فلم میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں نہایت خوبصورت ہوتی ہیں ۔ اور ان کی جنسی پاور بھی زبردست ہوتی ہے۔ لیکن جب لوگ اس فعل کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تو زیادہ تر انھیں اپنے پرانے ساتھی پر گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ جو کہ عرصہ پہلے اپنی جنسی کشش کھو چکا ہوتا ہے۔ نفسیات کے اس دھارے نے پورن انڈسٹری مالکان کو ایک بار پھر سوچ کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ۔ یوں 2014 میں ایک منفرد ٹیکنالوجی وجود میں آئی۔ اس ٹیکنالوجی کو سلیکون سیکس گرل کہتے ہیں ۔ اس ٹیکنالوجی میں سلیکون دھات سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کا وجود تراشا جاتا ہے۔ پھر اسے اس قدر حقیقی بنایا جاتا ہے کہ اصل وجود اور اس مجسمے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ایسے لگتا ہے جیسے یہ ابھی بول پڑے گی ۔ اس کا جسم اتنا نرم و نازک بنایا جاتا ہے کہ زندہ وجود کی نزاکت کو رد کرتا ہے ۔ ان کی خوبصورتی، جسم کی نرمی اور بناوٹ کا انداز ایسا ہے کہ بس جان ڈالنے کمی رہ گئی ہے ۔ انھیں دیکھ کر آنکھیں بار، بار دھوکہ کھاتی ہیں ۔ ان...

ایکس اہکس ایکس کی ابتدا (حصہ چہارم)

بقیہ: سائنسی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ہمارے جسم میں ایک مادہ منی کے ساتھ خارج ہوتا ہے ۔ جو ڈی این اے میں اکثر خرابی کا باعث بنتا ہے ۔ اگر وہ منہ کے ذریعے معدے میں چلا جائے یا دانتوں میں اسکی کوئی باقیات رہ جائیں ۔ تو وہ منہ کے خلیات میں p16 پروٹین نامی مادہ پیدا کر دیتا ہے۔ جو منہ کے کینسر اور بلڈ پرابلمز کو جنم دیتا ہے اور یہ وہ بیماریاں ہیں جن کا علاج یہودی لیبارٹریوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتا۔ ان بیماریوں کی تمام دوائیاں اسرائیلی کمپنیز سے نہایت مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں ۔ ان بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کے چہرے بدل جاتے ہیں اور موت سسک سسک کر آتی ہے ۔ لہذا اورل سیکس کے شوقین شوق پورا کرنے سے پہلے چشم تصور میں اپنا انجام بھی سوچ لیں .....! اورل سیکس دراصل خفیہ یہودی ایجنسیز کا ذریعہ آمدنی ہے ۔ اسی کے ذریعے لوگ ان کا شکار بنتے ہیں اور انھیں لاکھوں ڈالر لٹاتے ہیں۔ اورل سیکس کے ساتھ سکیٹ ایٹنگ اور پس ڈرنکنگ سیکس کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ جو کہ یہودی ایجنسیز کی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ان پورن ویڈیوز میں کام کرنے والے اداکاروں کو شوٹنگ کے فوری بعد، ان کے منہ میں مخصوص سپر...

ایکس ایکس ایکس کی ابتدا (حصہ سوم)

بقیہ: انیسویں صدی کے آغاز میں کیمرہ ٹیکنالوجی میں مزید بہتری آئی ۔ منظر پہلے سے زیادہ صاف اور معیاری ریکارڈ ہونے لگے۔ اس کے ساتھ ہی فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے سرکاری سطح پر پورن تھیٹر کھول دیئے ۔ جہاں پورن اداکاروں کی پیداوار کا سلسلہ شروع ہوا .....! 1920 تک یورپی تہذیب پورن گرافی کے اس زہر میں ڈوب چکی تھی ۔ عوام سر عام سڑکوں کو بیڈ روم بنائے اپنا شوق پورا کرنے لگی ۔ ساحل سمندر عیاشی کے اڈے بن گئے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگے .....! 1970 میں پورن گرافی کا زہر برصغیر میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پہلے پہل یہ صرف تصاویر پر مشتمل تھا ۔ اسے ویڈیو دکھانے کیلئے یورپی کمپنیز نے پاکستان و بھارت میں پورن سینما کی اجازت چاہی ۔ اس کے جواب میں صرف انکار ہی نہیں کیا گیا بلکہ پورن گرافی کو باقاعدہ ایک جرم قرار دیا گیا .....! دوسری طرف یورپی ممالک میں سیکس ویڈیوز کی ڈیمانڈ کم ہونا شروع ہوئی، کیونکہ ایک ہی سین ہر فلم میں دیکھ کر عوام بور ہونے لگی ۔ دوسرا بذات خود انکا معاشرہ اتنا آزاد ہوچکا تھا کہ ویڈیو دیکھنے کی ضرورت روز بروز کم ہونے لگی۔اسی صورتحال سے پریشان...

ایکس ایکس ایکس کی ابتدا (حصہ دوم)

بقیہ: ہرمن کے اس خیال پر رونالڈ نے نقطہ اٹھایا ۔ اس نے کہا : " ہم متعدد بار نہایت خوبصورت لڑکیاں مسلمان فوج میں داخل کر چکے ہیں ۔ اس کام میں ہمیں شدید تخریب کاری کرنا بھی پڑی تھی ۔ لیکن مسلمان فوج ان حسین لڑکیوں کی طرف دیکھنے کا تکلف ہی نہیں کرتی ہے ۔اور متعدد لڑکیاں مسلمان فوج کا کردار دیکھ صلیبی حمایت چھوڑ چکی ہیں ۔ لہذا تمھارا یہ منصوبہ ناکام ہے .....! " ہرمن نے فوری جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا : " حضور جب تک آپ کے اندر کسی چیز کا تصور موجود نہ ہو اسکا ہونا نہ ہونا بے معنی ہوتا ہے ۔ ہمیں مسلم فوج میں جنسی دنیا کا تصور پیدا کرنا ہے ۔ایسا تصور جو ان کی سوچ کی راہداریوں میں برہنہ عورتوں کو حسین اداؤں کے ساتھ گردش کرتا دکھائے ۔ اسکے بعد وہ خود ہماری ثقافت کے حوالے کر دیں گے کیونکہ یہ ہماری ایجاد ہوگی، یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم مسلمان کو شکست دے سکتے ہیں .....! " رونالڈ ہرمن کی اس بات پر بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا اور سرگوشی بھرے لہجے میں بولا : " آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو .....! " ہرمن نے نہایت شاطرانہ انداز میں تاریخ کا سب سے بھیانک منصوبہ ...

ایکس ایکس ایکس کی ابتدا

Xxx فلمیں ایک سازش جس سے مسلمان بے خبر ھیں تو یہ نصیحت آمیز تحقیق و تاریخ پڑھو۔۔۔۔ پورن گرافی عصر حاضر کا ایک بہت بڑا ناسور ہے ۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق دریافت نہ ہو سکا ۔لوگوں کے رویے اور انداز زندگی اسی کی بدولت جنسی خود غرضی کی بھینٹ چڑھے ......! ہم اکثر سوچتے ہیں آخر یہ کھیل شروع کب ہوا .....؟ اسکا تاریخی پس منظر کیا ہے .....؟ اس کے وجود کے بنیادی محرکات کیا تھے .....؟ آج کی تاریخ میں اس میں کیسی جدتیں لائی جارہی ہیں .....؟ قارئین .....!  تاریخ میں سب سے پہلے پورن گرافی بطور ہتھیار سلطان صلاح الدین ایوبی (1137. 1193) کے دور حکومت میں ہوئی ۔ اسے بطور ہتھیار سب سے پہلے صلیبی بادشاہوں نے استعمال کیا ۔ کہانی کچھ یوں ہے صلیبی ہر میدان میں مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں شکست فاش سے سخت پریشان تھے ۔ اسلامی افواج صلیبی جمیت اور متحدہ قوتوں پر بھاری ثابت ہورہی تھیں ۔ صلیبیوں کی سوچ کا دھارا اس وقت بدلا جب ڈیڑھ لاکھ مسلمان فوج نے بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر پندرہ لاکھ صلیبی جنگجو لاشوں کا ڈھیر کر دیئے ۔ اس موقع پر متحدہ صلیبی فوج کا بادشاہ رونالڈ پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔ آ...

Why things go wrong???

We wonder why things go wrong 🤔 🚗 New car? Take a selfie. Put it on social media 🏋🏻 Worked out at the gym? Take a selfie. Put it on social media 🎂 Family celebration? Take a selfie. Put it on social media. 💼 New job? Take a selfie. Put it on social media. 👦🏻 Cute son/daughter? Take a selfie. Put it on social media 🎓 Just graduated? Take a selfie. Put it on social media 🍲 Nice meal? Take a selfie. Put it on social media. 💍 Got married? Take a selfie. Put it on social media. 🕋 Performed Hajj/Umrah? Take a selfie. Put it on social media. 💇🏻‍♂ New look? Take a selfie. Put it on social media. 👠 New shoes? Take a selfie. Put it on social media ✈ Going on holiday? Take a selfie. Put it on social media ⚽ Special talent? Take a selfie. Put it on social media ⌚ New gadget? Take a selfie. Put it on social media All done? Then we wonder why things go wrong. In surah Al-Falaq, Allah the Almighty tells us to see...

موت تک صحتمندانہ زندگی کا راز

آپ کو دنیا میں ایسے انسان بہت کم ملیں گے جن کے یہ چاروں اعضاءعمر کے ساتھ متاثر نہ ہوئے ہوں‘ وہ بھی ایک ایسا ہی شخص تھا‘ وہ زندگی کی 97 بہاریں دیکھ چکا تھا‘ اس کے پوتے اور نواسیاں بال بچے دار تھیں لیکن وہ اپنی آٹھویں بیوی کے ساتھ بھرپور زندگی گزار رہا تھا‘ وہ کسی بھی طرح چالیس پینتالیس سے بڑا دکھائی نہیں دیتا تھا‘ میں لمبا سفر طے کر کے اس کے پاس ایمسٹرڈیم گیا‘ وہ شہر کے مضافات میں چھوٹے سے گاﺅں میں رہتا تھا‘ پنشن کی رقم میاں بیوی کےلئے کافی تھی‘ وہ مہینے میں آٹھ دن کوچنگ کرتا تھا‘ پچاس یورو فی کس چارج کرتا تھا اورلوگوں کو صحت مند‘ خوش حال اور پرمسرت زندگی کا طریقہ بتاتا تھا‘ میں نے بھی اسے پچاس یورو ادا کئے اور اس کی ”اوپن ائیر اکیڈمی“ میں بیٹھ گیا‘ جارج نے یہ اکیڈمی گھر کے چھوٹے سے لان میں بنا رکھی تھی‘ لوگ بلاکس کے بینچوں پر بیٹھتے تھے اور وہ ننگی زمین پر گھاس پر بیٹھ کر انہیں لیکچر دیتا تھا‘ ہمارے گروپ میں چھ لوگ تھے‘ دو لڑکیاں اور چار لڑکے‘ ہم سب ایک دوسرے کےلئے اجنبی تھے لیکن ہمارا مسئلہ کامن تھا‘ ہم ”موت تک صحت مند زندگی“ کا راز معلوم کرنا چاہتے تھے‘ ہم بینچوں پر تھے اور وہ ہمار س...