ایکس ایکس ایکس کی ابتدا (حصہ پنجم)
بقیہ:
دوستو .....!
کہتے ہیں ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے ۔ لہذا دو صدیوں سے پورن گرافی دیکھنے والی عوام اکتا گئی ۔ کیونکہ پورن فلم میں کام کرنے والے اداکار اور اداکارائیں نہایت خوبصورت ہوتی ہیں ۔ اور ان کی جنسی پاور بھی زبردست ہوتی ہے۔ لیکن جب لوگ اس فعل کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تو زیادہ تر انھیں اپنے پرانے ساتھی پر گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ جو کہ عرصہ پہلے اپنی جنسی کشش کھو چکا ہوتا ہے۔ نفسیات کے اس دھارے نے پورن انڈسٹری مالکان کو ایک بار پھر سوچ کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ۔ یوں 2014 میں ایک منفرد ٹیکنالوجی وجود میں آئی۔ اس ٹیکنالوجی کو سلیکون سیکس گرل کہتے ہیں ۔ اس ٹیکنالوجی میں سلیکون دھات سے ایک نہایت خوبصورت لڑکی کا وجود تراشا جاتا ہے۔ پھر اسے اس قدر حقیقی بنایا جاتا ہے کہ اصل وجود اور اس مجسمے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ایسے لگتا ہے جیسے یہ ابھی بول پڑے گی ۔ اس کا جسم اتنا نرم و نازک بنایا جاتا ہے کہ زندہ وجود کی نزاکت کو رد کرتا ہے ۔ ان کی خوبصورتی، جسم کی نرمی اور بناوٹ کا انداز ایسا ہے کہ بس جان ڈالنے کمی رہ گئی ہے ۔ انھیں دیکھ کر آنکھیں بار، بار دھوکہ کھاتی ہیں ۔ ان سلیکون گرلز کو جنسی خواہش کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان کے مخصوص اعضا میں ایسے مصالحے استعمال کیے گئے ہیں کہ فحاشی کا سکون تین گنا بڑھ جاتا ہے ۔اسی طرح خواتین کیلئے سلیکون بوائز کے نہایت خوبصورت مجسمے بنائے گئے ۔ ان مجسموں کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ آپ انکی جسمانی لچک کو کسی بھی زاویے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں .....!
لیکن یاد رکھیے ....! ان سلیکون جنسی مجسموں میں کچھ ایسے راز بھی چپکے ہیں جو آپکو دائمی جنسی مریض بنا سکتے ہیں ۔ کیونکہ تمام سیکس میڈیسن بھی انھیں مجسموں کے خالق بنا رہے ہیں ۔ ایک طرح سے یہ لوگ بیماری لگانے کے بھی پیسے لیتے ہیں۔علاج کے نام پر مستقل گاہک بنا کربھی لوٹتے ہیں .....!
2015 میں سلیکون مجسموں کو یورپی مارکیٹ میں لانچ کیا گیا ۔ جیسے ہی یہ مجسمے مارکیٹ میں آئے تو خریداروں کے ہجوم لگ گئے ۔ انھیں مجسموں کی بدولت مرد و عورت کا آپسی جنسی تعلق بھی کمزور ہوگیا ۔ جس سے شرح پیدائش میں واضح کمی واقع ہوئی ۔ اسی کے ساتھ ورچول رئیلٹی ڈیوائس نے رہی سہی کسر پوری کردی .....!
یورپی ممالک میں شرح پیدائش تو اٹھارویں صدی سے ہی کمزور پڑ گئی تھی ۔ لیکن 2010 کے بعد یہ کمی شدید تر ہوگئی ۔ البتہ مسلم کمیونٹی برابر شرح پیدائش پر برقرار رہی ۔ اسی صورتحال سے گھبرا کر بعض ممالک میں چلڈرن ہاؤس قائم کردئیے گئے ہیں ۔ جہاں عورت و مرد کو بھاری رقم دے کر بچہ پیدا کیا جاتا ہے ۔ بچے کی تمام افزائش چلڈرن ہاؤس کے ذمہ ہوتی ہے ۔ ہالینڈ میں بچہ پیدا کرنے والی عورت کو دس ہزار ڈالر دیئے جاتے ہیں ۔ جبکہ عورتوں نے انکار کیا تو رقم انکی مرضی پر متعین کی گئی ۔ہمارے علماء حضرات چاہے جو بھی خیال رکھتے ہوں، لیکن یہ سچ ہے پورن گرافی کا زیادہ نقصان خود انھیں کا ہوا جن کی ایجاد تھی .....!
آج اگرچہ مسلمان بھی اسکا شکار ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہم اپنے مذہب ،ثقافت اور نسل کو لیے برابر چل رہے ہیں ۔ جبکہ مغربی معاشرہ اس قدر ٹوٹ چکا ہے کہ آرٹیفشل بچے پیدا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے .....!
2013 میں امریکی پارلیمنٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ 2050 تک اسلام کی افرادی پاور پورے یورپ پر حاوی ہو جائے گی ۔ لہذا اسلام کو ہر طرف سے گھیر کر محدود کیا جائے ۔ لوگوں کے دلوں میں اسلام کیلئے نفرت پیدا کر کے انھیں اپنے آزاد معاشرے کا حصہ بنا یا جائے .....!
یہی وجہ ہے آج پوری دنیا میں اسلامی شدت پسندی دکھائی جا رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر ملحد اسلام کو نوچ رہے ہیں ۔ سیاست میں بڑے بڑے لبرل داخل کیے جا رہے ہیں ۔ مقبوضہ علاقوں مسلمانوں کا قتل عام کروایا جارہا ہے ۔ کیونکہ دشمن جان چکا ہے کہ اسکا ہتھیار خود اسکی قوم کو ختم کرچکا ہے لیکن جاتے جاتے مسلمان پر آخری وار ضرور کرتے جاؤ ......!
میرے معزز دوستوں آپ لوگوں کا اپنا قیمتی وقت دے کر اس تحریر کو مطالعہ کرنے کا بےحد شکریہ، بس ایک آخری مہربانی یہ کرتے جائیے کہ جاتے، جاتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو سکتی ہے، اور اسے شیئر کر کے تو آپ یہ غیر
معمولی حقیقت اپنے دوستوں تک پہنچا کر نجانے کتنے نادانوں کو رہ راست پر لانے کا سبب بن سکتے ہیں.
(اختتام)
Good observation
جواب دیںحذف کریںgreat piece of information.
جواب دیںحذف کریںStill cannot belive that porn industry has this much power to influence our life.
جواب دیںحذف کریںI think there is much influence, in our daily life we want to be like our idols, these days our idols are actors and actresses, and talking about the topic, I would say yes, majority of ppl have been influenced heavily by the porn movies, new experiments, toys and other stuff, all this awareness is from porn industry.
حذف کریں