ایکس ایکس ایکس کی ابتدا (حصہ دوم)

بقیہ:
ہرمن کے اس خیال پر رونالڈ نے نقطہ اٹھایا ۔ اس نے کہا :
" ہم متعدد بار نہایت خوبصورت لڑکیاں مسلمان فوج میں داخل کر چکے ہیں ۔ اس کام میں ہمیں شدید تخریب کاری کرنا بھی پڑی تھی ۔ لیکن مسلمان فوج ان حسین لڑکیوں کی طرف دیکھنے کا تکلف ہی نہیں کرتی ہے ۔اور متعدد لڑکیاں مسلمان فوج کا کردار دیکھ صلیبی حمایت چھوڑ چکی ہیں ۔ لہذا تمھارا یہ منصوبہ ناکام ہے .....! "

ہرمن نے فوری جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا :
" حضور جب تک آپ کے اندر کسی چیز کا تصور موجود نہ ہو اسکا ہونا نہ ہونا بے معنی ہوتا ہے ۔ ہمیں مسلم فوج میں جنسی دنیا کا تصور پیدا کرنا ہے ۔ایسا تصور جو ان کی سوچ کی راہداریوں میں برہنہ عورتوں کو حسین اداؤں کے ساتھ گردش کرتا دکھائے ۔ اسکے بعد وہ خود ہماری ثقافت کے حوالے کر دیں گے کیونکہ یہ ہماری ایجاد ہوگی، یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم مسلمان کو شکست دے سکتے ہیں .....! "

رونالڈ ہرمن کی اس بات پر بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا اور سرگوشی بھرے لہجے میں بولا :
" آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو .....! "

ہرمن نے نہایت شاطرانہ انداز میں تاریخ کا سب سے بھیانک منصوبہ رونالڈ کے سامنے پیش کر دیا ۔ دنیا کے سامنے یہ منصوبہ آرٹ پورن گرافی کے نام سے سامنے آیا۔ اس منصوبے کے ایک سال بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاح ملی کہ فوج کے کچھ نوجوان رات کوغائب پائے جاتے ہیں۔ نوجوانوں میں اکثر جنسی گفتگو بھی سنی گئی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس چیز کو اتنا سنجیدگی سے لیا کہ خود بھیس بدل کر ان نوجوانوں کا پیچھا کیا ۔ یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ سلطان ایوبی بذات خود بھیس اور آواز بدلنے کے ماہر تھے۔ تاریخ میں متعدد بار ان کی ایک دوسری شخصیت کے روپ میں دشمن کے ساتھ ملاقات کی روایات موجود ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک جنگ میں شکست کے بعد صلیبی اعلی افسران کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا ۔ سلطان نے ایک افسر سے پوچھا :
" رات جس شخص سے تم نے کہا تھا میں ایوبی کو اسکی سانس کی مہک سے پہچان سکتا ہوں بتاؤ وہ کون تھا ......!"

وہ صلیبی افسر بولا :
" حضور وہ ایک عربی تاجر تھا جس کی غلط بیانی نے ہمیں آپ کے سامنے لا کھڑا کیا .....!'

سلطان ایوبی نے مسکراتے ہوئے کہا :
" وہ میں خود تھا .....! "

وہ حیرت زدہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو تکتا رہ گیا .....

دوستوں فوج کے کچھ نوجوانوں کی پرسرار حرکتوں پر سلطان ایوبی خود انکے پیچھے گئے تو معلوم ہوا فوجی قیام گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک قافلہ رکا ہے ۔ جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے پاس فحش تصاویر کے کچھ نمونے موجود ہیں ۔ جب سلطان نے وہ تصاویر دیکھیں تو دنگ رہ گئے ۔ ان میں ایسی منظر کشی کی گئی تھی کہ کوئی بھی نوجوان سیکس کیلئے جنونی ہوسکتا تھا ۔اسی دوران سلطان صلاح الدین ایوبی کو دمشق اور مصر کے دیگر شہروں سے اطلاعات ملیں کہ شہر میں فحش تصاویر کے قبہ خانے کھل گئے ہیں ۔ جہاں جنسی اشتعال انگیز تصاویر دکھائی جاتی ہیں ۔ نوجوانوں کو جنسیات کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے ۔ ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ مسلمان نوجوان بڑی تیزی سے برائی کی طرف مائل ہو رہے ہیں .....!

سلطان صلاح الدین ایوبی نے فوری اپنی جنگی پیش قدمی روکی اور پورن گرافی کے اس ناسور کے خلاف محاظ کھولا ۔ اس حوالے سطان صلاح الدین ایوبی نے ایک تاریخی تقریر میں کہا تھا :
" ہر قوم کی طاقت اسکا اچھا یا برا کردار ہوا کرتا ہے، دشمن ہماری اصل طاقت کا اندازہ لگا چکا ہے۔ اب وہ سامنے کی جنگ کبھی نہیں کرے گا ۔ اسی لیے دشمن اب ہمارے قومی کردار پر حملہ آور ہوا ہے، کیونکہ ضروری نہیں جنگ میدانوں میں ہو ۔ جنگ سوچ اور رویوں کی بھی ہوتی ہے۔ جو قوم اس پر غالب آجاتی ہے وہ فتح یاب ہوتی ہے .....!

میرے معزز قارئین ....! 
صلیبی انٹیلی جنس آفیسر ہرمن ایک نہایت ذہین اور شاطر انسان تھا ۔اگر آپ پوری صلیبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو یہ شخص پوری تاریخ میں چھایا ہوا نظر آئے گا ۔ صلیبی جب ہمت ہار چکے تھے تو اس شخص نے ان میں جان ڈال دی ۔ اسی کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے دنیا کے مشہور مصور اور منظر نگار وں کو منہ مانگی قیمت پر خریدا گیا ۔ ان سے ایسی فحش تصویر کشی کروائی گئی کہ دیکھ کر نظریں ہٹانا مشکل ہوجاتا تھا۔ وہ سیکس جس پر لوگ ایک حد تک توجہ دیتے تھے پھر اسے بے حد سوچنے لگے ۔ صلیبی بادشاہوں نے جب اپنے اس منصوبے کو سو فیصد کامیاب ہوتے دیکھا تو اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ بڑی شان سے کیا .....!

اگرچہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس زہر کو مارنے کی پوری کوشش کی ۔ لیکن اس مسئلے کا پوری طرح ادراک نہ ہوسکا ۔ کیونکہ اس زہر کے اثر کو دیکھتے ہوئے حسن بن سباح کے فرقے نے اسے بطور ہتھیار اپنایا ۔ صلیبیوں سے اس آرٹ گرافی کی نئی جدتوں پر مانگ کی ۔ یوں حسن بن سباح کی پہاڑوں میں بنائی ہوئی پرسرار جنت میں ایک اور ہتھیار کا اضافہ ہوا اور اسی دوران سلطان بیت المقدس کی فتح کے بعد چل بسے ۔ صلیبی اپنا دم خم کھو چکے تھے لیکن انکا تیار کردہ زہر پورن گرافی مسلسل فحاشی کے جراثیم پھیلاتا رہا ۔ یوں صدیاں بیت گئیں ۔ زمانے کے رنگ ڈھنگ بدل گئے اور کئی ثقافتیں آئیں اور مٹ گئیں .....!
(جاری)

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عام عورت اور طوائف میں فرق

مسوڑوں سے خون نکلنے کا مسئلہ دور کریں