ماہ رمضان میں خواتین سے متعلقہ چند مسائل



حیض ونفاس والی عورتیں
١۔حیض ونفاس والی عورتوں کیلئے روزہ رکھنا حرام ہے اگر کوئی رکھ بھی لے تو اس کا روزہ نہیں ہو گا .
عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال:............ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : "ألیس ذا حاضت لم تصل ولم تصم ؟قلن بلی ، قال: فذلک من نقصان دینہا ،،
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ....... نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"کیا ایسا نہیں ہے ( یعنی ایسا ہے ) کہ عورت جب حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے،، عورتوں نے کہا: ہاں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"یہی ان کے دین کی کمی ہے ،،
( صحیح بخاری کتاب الحیض باب: ٦حدیث :٣٠٤) .
اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ انہوں نے کہا
 "کان ذا یصیبنا ذلک فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة ،،
"یعنی جب ہمیں حیض لاحق ہوتا تو ہمیں روزہ کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا لیکن نماز کی قضا کا حکم نہ دیا جاتا تھا ، ،
( صحیح مسلم کتاب الحیض باب : ١٥حدیث:٦٩)
معلوم ہوا عورتیں حالت حیض ونفاس میں روزہ نہیں رکھیں گی، البتہ بعد میں ان ایام کی قضا کریں گی ۔
٢۔اگر کوئی عورت روزہ سے ہو اور سورج ڈوبنے سے کچھ لمحہ پہلے اسے حیض یا نفاس کا خون آجائے تو اس کا اس دن کا روزہ باطل ہوجائیگا اور اس پر اس کی قضا واجب ہوگی.
٣۔ اگر عورت رات میں فجر سے کچھ پہلے پاک ہوجائے تو اس پر روزہ واجب ہوگا گرچہ وہ غسل فجر کے بعد کرے  .
٤۔ اگر کوئی عورت بحالت روزہ حیض آنے کا احساس کرے یا درد اور تکلیف محسوس کرے مگر حیض کا خون سورج ڈوبنے کے بعد ظاہر ہوا تو اس دن کا روزہ صحیح ہوگا، اور اس پر اس کی قضا لازم نہیں .
٥۔ اگر کوئی نفاس والی عورت چالیس دنوں کے اندر پاک ہوجائے مثلا بچہ کی پیدائش کے ایک ہفتہ بعد نفاس کا خون بند ہوگیا اور پاکی کی علامت ظاہر ہوگئی تو وہ روزہ رکھے گی اور اس کا روزہ صحیح ہوگا، البتہ پھر دوبارہ اگر خون آجائے تو روزہ ترک کر دے گی یہاں تک کہ پھر پاک ہوجائیں یا چالیس دن پورے کرلیں کیونکہ نفاس کی آخری مدت چالیس دن ہے ، اور چالیس دن کے بعد آنے والا خون ،اگرعورت کی عادت ِحیض سے مطابقت کر جائے تو وہ نماز اور روزہ ترک کر دے گی اور اس کو حیض سمجھے گی۔
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں
١۔ جب حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں روزہ کی وجہ سے اپنی ذات پر یا اپنے بچہ پر خوف محسوس کریں تو وہ روزہ چھوڑ دے اور خوف زائل ہونے کے بعد جب ممکن ہو اپنے فوت شدہ روزوں کی قضا کرلیں.
٢۔ اگر کسی حاملہ عورت کو بحالت روزہ خون یا پانی آجائے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا اس کے روزے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑ ے گا  .
 وہ بوڑھی عورت جو روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو
اگر کسی بوڑھی عورت کیلئے روزہ رکھنا نقصان دہ ہو تو اسے روزہ نہیں رکھنا چاہئے
ارشا دباری تعالی ہے
 " وعلی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین ،،
اور ایسے لوگوں پر جن کیلئے روزہ باعث مشقت ہو ایک مسکین کو کھانا دینا ( روزہ کا ) فدیہ ہے ( سورئہ بقرہ : ١٨٤).
مفسر قرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
" ہو الشیخ الکبیر والمرأة الکبیرة لا یستطیعان أن یصوما فلیطعمان مکان کل یوم مسکینا ،،"یہ آیت عمر دراز بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کیلئے رخصت کے طور پر اتری ہے جو روزے نہ رکھ سکتے ہوں تو ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا دے دیں،،(صحیح بخاری کتاب التفسیر باب:٢٥حدیث:٤٥٠٥)

بحالت روزہ عورتوں کیلئے زیب وزینت کی چیزوں کا استعمال
وہ چیزیں جن کے استعمال سے عورت کے چہرہ پر حسن وجمال پیدا ہوتا ہے مثلا صابون ،کریم ، پاؤڈر ، تیل اور سرمہ وغیرہ تو ان چیزوں کے استعمال سے روزہ پر کو ئی اثر نہیں پڑے گا اسی طرح مہندی ،  اور زینک وغیرہ استعمال کرسکتی ہیں .
رمضان کے روزوں کی قضا
مرد وعورت ہر ایک پر لازم ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے رمضان کے روزوں کی قضا کر لیں، اگر کسی کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضا تھی اور اس نے تاخیر کی یہاں تک کہ دوسرا رمضان آگیا اور تاخیر کیلئے اس کے پاس کوئی عذر بھی نہیں تھا تواب اس پر قضا کے ساتھ بہت سے علماء کے نزدیک ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلانا بھی واجب ہے اور اگر تاخیر کسی عذر کی وجہ سے ہو تو اس پر صرف قضا واجب ہے  .

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عام عورت اور طوائف میں فرق

مسوڑوں سے خون نکلنے کا مسئلہ دور کریں