ایکس ایکس ایکس کی ابتدا

Xxx فلمیں ایک سازش جس سے مسلمان بے خبر ھیں
تو یہ نصیحت آمیز تحقیق و تاریخ پڑھو۔۔۔۔

پورن گرافی عصر حاضر کا ایک بہت بڑا ناسور ہے ۔ یہ وہ زہر ہے جس کا کوئی تریاق دریافت نہ ہو سکا ۔لوگوں کے رویے اور انداز زندگی اسی کی بدولت جنسی خود غرضی کی بھینٹ چڑھے ......!
ہم اکثر سوچتے ہیں آخر یہ کھیل شروع کب ہوا .....؟
اسکا تاریخی پس منظر کیا ہے .....؟
اس کے وجود کے بنیادی محرکات کیا تھے .....؟
آج کی تاریخ میں اس میں کیسی جدتیں لائی جارہی ہیں .....؟

قارئین .....! 
تاریخ میں سب سے پہلے پورن گرافی بطور ہتھیار سلطان صلاح الدین ایوبی (1137. 1193) کے دور حکومت میں ہوئی ۔ اسے بطور ہتھیار سب سے پہلے صلیبی بادشاہوں نے استعمال کیا ۔ کہانی کچھ یوں ہے صلیبی ہر میدان میں مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں شکست فاش سے سخت پریشان تھے ۔ اسلامی افواج صلیبی جمیت اور متحدہ قوتوں پر بھاری ثابت ہورہی تھیں ۔ صلیبیوں کی سوچ کا دھارا اس وقت بدلا جب ڈیڑھ لاکھ مسلمان فوج نے بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر پندرہ لاکھ صلیبی جنگجو لاشوں کا ڈھیر کر دیئے ۔ اس موقع پر متحدہ صلیبی فوج کا بادشاہ رونالڈ پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔ آخر ایک بڑی میٹنگ کا انعقاد ہوا ۔ اس میٹنگ میں مسلم اور صلیبی افواج کا موازنہ کیا گیا ۔ معلوم ہوا مسلمان رات بھر سجدوں میں روتے ہیں۔ اور دن بھر میدانوں کی للکار ہوتے ہیں ان کے اندر ایک دنیا آباد ہے جسے وہ ایمان کہتے ہیں ۔ یہی ایمان انھیں دنیا کے ہر خوف و ڈر اور لذت پرستی سے بہت اوپر، انھیں بہترین جنگجو بنائے رکھتا ہے۔ جبکہ صلیبی فوجی رات بھر زنا کی محفلوں اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ لہذا دنیا چھوڑ کر ایک نئے جہاں کاخوف انھیں شکست فاش سے دو چار کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ دوران جنگ مسلمان فوجیوں کی آنکھوں سے جو وحشت ٹپکتی ہے ۔ وہ صلیبی قوتوں پر خوف طاری کر دیتی تھی ۔ اسکے ساتھ #نعرہ_تکبیر کی فلک شگاف صدائیں اور مسلمانوں کا اپنی اپنی جگہ پر فولاد بن جانا بھی صلیبیوں کیلئے ایک مسئلہ بن گیا تھا .....!

صلیبیوں کی اس تاریخی میٹنگ میں ہرمن نامی انٹیلی جنس آفیسر بھی موجود تھا ۔یہ وہ شخص ہے جس نے صلیبی تاریخ میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہچایا ۔ یہ نہایت شاطر اور ذہین و فطین شخص تھا ۔اس نے مسلمان اور صلیبی نوجوان کی نفسیات پر بات کرتے واضح کیا ۔ میری ساٹھ سالہ زندگی کا تجربہ ہے کہ ایک عیاشی پسند وجود کبھی بھی زندگی کے میدان میں بہترین سپاہی نہیں بن سکتا ۔ خصوصا وہ لوگ جو سیکس کے معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انکی جسمانی و روحانی طاقتیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں اگر میں مسلم فوج کی بات کروں تو مسلمان فوج میں ایسے نوجوانوں کی اکثریت ہے جو سیکس کی لذت سے یکسر نا آشنا ہیں ۔ان میں سے جو شادی شدہ بھی ہیں وہ بھی اس چیز کو ایک حد تک آزما پاتے ہیں ۔ تصور کی رعنائیاں اور خوبصور ت نظارے ہمیشہ ان کی پہنچ سے دور رہے ہیں ۔ انھیں مذہب سے آگے اور پیچھے کچھ نہیں دکھائی دیتا ۔ لہذا ہم اگر ان میں جنسی بھوک کو پیدا کر دیں تو ان کی سوچ اور نظریات کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی کی ایک مثال وہ مسلمان بادشاہ اور وزرا بھی ہیں جو شروع میں سطان ایوبی کے ساتھ تھے لیکن ہماری خوبصور ت لڑکیوں نے جب سے انھیں اپنی حسین اداؤں کا اسیر کیا تب سے وہ خدا اور رسول کو جانتے ہی نہیں ہیں انھیں سلطان ایوبی اپنا سب سے بڑا دشمن نظر آتا ہے ۔ ان مسلمان وظیفہ خوروں میں سے وہ جرنیل بھی شامل ہیں جن کی حکمت عملیاں اور بہادریاں میدانوں کے نقشے بدل ڈالا کرتی تھیں ۔ آج وہ صلیبیوں سے نگاہیں جھکا کر بات کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم انکے اندر عورت اور جنسیات کی روح داخل کرچکے ہیں ۔ اگر یہی حربہ پوری مسلمان فوج پر آزمایا جائے تو یقیناً ہم کامیاب ہونگے ۔ کیونکہ مسلمان نوجوان کیلئے یہ ایک بالکل نئی چیز ہوگی اور وہ اس کیلئے جنونی ہوسکتے ہیں .....!

(جاری)

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عام عورت اور طوائف میں فرق

مسوڑوں سے خون نکلنے کا مسئلہ دور کریں