ایکس ایکس ایکس کی ابتدا (حصہ سوم)

بقیہ:
انیسویں صدی کے آغاز میں کیمرہ ٹیکنالوجی میں مزید بہتری آئی ۔ منظر پہلے سے زیادہ صاف اور معیاری ریکارڈ ہونے لگے۔ اس کے ساتھ ہی فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے سرکاری سطح پر پورن تھیٹر کھول دیئے ۔ جہاں پورن اداکاروں کی پیداوار کا سلسلہ شروع ہوا .....!

1920 تک یورپی تہذیب پورن گرافی کے اس زہر میں ڈوب چکی تھی ۔ عوام سر عام سڑکوں کو بیڈ روم بنائے اپنا شوق پورا کرنے لگی ۔ ساحل سمندر عیاشی کے اڈے بن گئے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگے .....!

1970 میں پورن گرافی کا زہر برصغیر میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پہلے پہل یہ صرف تصاویر پر مشتمل تھا ۔ اسے ویڈیو دکھانے کیلئے یورپی کمپنیز نے پاکستان و بھارت میں پورن سینما کی اجازت چاہی ۔ اس کے جواب میں صرف انکار ہی نہیں کیا گیا بلکہ پورن گرافی کو باقاعدہ ایک جرم قرار دیا گیا .....!

دوسری طرف یورپی ممالک میں سیکس ویڈیوز کی ڈیمانڈ کم ہونا شروع ہوئی، کیونکہ ایک ہی سین ہر فلم میں دیکھ کر عوام بور ہونے لگی ۔ دوسرا بذات خود انکا معاشرہ اتنا آزاد ہوچکا تھا کہ ویڈیو دیکھنے کی ضرورت روز بروز کم ہونے لگی۔اسی صورتحال سے پریشان ہوکر پورن انڈسٹری نے پورن گرافی کی نئے انداز پر کام کرنے کے بارے میں سوچا ۔ یوں پورن کیٹیگری پراجیکٹ کا آغاز ہوا ۔ اس پورن کیٹیگری پراجیکٹ میں سیکس کو کئی اقسام میں تقسیم کر دیا گیا ۔ ہر قسم کا اپنا ایک منفرد انداز ہوتا تھا .....!

اگر آج ہم کسی پورن ویب سائٹ کو اوپن کریں تو ہمارے سامنے ایک لسٹ اوپن ہو جاتی ہے ۔ جس میں سیکس کی مختلف کیٹگریز نظر آتی ہیں۔ جب کیٹیگری پراجیکٹ یورپی عوام کے سامنے لایا گیا تو دیکھنے والوں کا ازدھام مچ گیا ۔ کیونکہ اس دفعہ فحاشی کے مناظر روایتی طریقوں سے ہٹ کر ریکارڈ کیے گئے تھے، یہ پراجیکٹ پورن انڈسٹری کیلئے آب حیات کی صورت اختیار کر گیا ۔ کیونکہ اسی کی بدولت ہر شخص کی جنسی نفسیات ابھر کر سامنے آئیں ۔ مثلا ایک شخص دھواں دار جنسی مناظر کے بجائے ریلیکس پورن دیکھنا پسند کرتا ہے، تو اس کیلئے الگ کیٹیگر ی موجود ہوگی ۔اور یقینا ًپانچ سال بعد بھی وہ ریلیکس پورن دیکھنا ہی پسند کرے گا ۔ یوں ہر شخص کی جنسی خواہش کے مطابق اسے پورن گرافی کا نشہ ملنے لگا .....!

1980 میں وی سی آر ٹیکنالوجی برصغیر میں عام ہوئی ۔ اگرچہ ستر کی دہائی میں کمپیوٹر بھی پاکستان میں اکا دکا جلوہ گر ہوچکے تھے ۔ لیکن عام لوگ اس سے نا آشنا تھے۔ لہذا لوگ پردہ سکرین سے ہٹ کر وی سی آر کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اسی دوران پاکستان فلم انڈسٹری بھی پوری شان سے ابھر کر سامنے آئی۔ یورپی کمپنیز نے جب ایشیائی لوگوں کا وی سی آر کی طرف رجحان دیکھا تو ان کی آنکھوں لالچ کی چمک پیدا ہوئی۔ یوں فحش فلمیں پاکستان، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک میں بلیک ہوکر بکنے لگیں .....!

1998 میںیورپی پورن انڈسٹری نامعلوم ہاتھوں میں چلی گئی ۔پہلے یہ صرف جنسی کاروبار کے طور پر استعمال ہوتی تھی ۔ لیکن پھر اسے پوری دنیا کو جنسی دہشت گردی کیلئے چنا گیا ۔ پورن انڈسٹری میں ایک ایسا جنسی طریقہ متعارف کروایا گیا ۔ جو براہ راست کینسر ، گلوریا اور دیگر تباہ کن بیماریوں کا موجب ہے ۔ اس طریقہ کار کو اورل سیکس کہتے ہیں ۔ آپ نے ایک چیز اکثر نوٹ کی ہوگی ۔ پورن فلم کی چاہے کوئی بھی کیٹیگری ویڈیو دیکھ لیں ۔ فلم کے سٹارٹ میں اورل سیکس کا مظاہرہ ضرور کیا جاتا ہے ۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ بھی ایک باقاعدہ جنسی عمل کا حصہ ہے .....!
(جاری)

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عام عورت اور طوائف میں فرق

مسوڑوں سے خون نکلنے کا مسئلہ دور کریں